Posts

آج کا دن:تاریخ کے آئینہ میں

آج کا دن : تاریخ کے آئینہ میں (3ستمبر) تحقیق:محمدیوسف بھٹہ *1783ء:برطانیہ اورامریکہ کے مابین پیرس معاہدہ کے نتیجہ میں امریکی انقلاب کی جنگ اختتام پزیرہوگئی۔ *1939ء:دوسری جنگ عظیم کا آغازہوا۔ *1939ء:ہٹلرکے پولینڈپرحملہ کے جواب میں برطانیہ اورفرانس نے جرمنی پرحملہ کردیا۔ *1950ء:جنرل ایوب خان کوپہلاکمانڈران چیف(پاک فوج کا سربراہ)بنادیاگیا۔ *1957ء:ریڈیو،ٹی وی اورفلم کے فنکارامتیازاحمدنیویارک میں انتقال کرگئے۔ *1957ء:باکسنگ کے سابق عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن سونی لسٹن نے گیرلڈائن کلارک سے شادی کرلی۔  *1964ء:معروف گلوکاراوراسلامی سکالرجنیدجمشیدکراچی میں پیداہوئے۔ *1967ء:سویڈن میں رائج بائیں جانب والی ڈرائیونگ کوتبدیل کرکے دائیں جانب رائج کردیاگیا۔ *1971ء:پچپن سالہ غلامی کے بعدقطر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرلی۔ *1976ء:امریکی خلائی جہازوائی کنگ ٹومریخ پراترااوراس نے سیارے کی سطح کی تصاویرپہلی بارزمین پربھیجیں۔ *1978ء:پوپ جان پال اوّل کورومن کیتھولک چرچ کا264واں پاپائے روم بنادیاگیا۔ *1990ء:قومی فٹ بالرعباس علی کوئٹہ میں پیداہوئے۔ *1995ء:آن لائن آکشن اورمارکیٹ ک...

آج کا دن: تاریخ کے آئینہ میں

آج کا دن : تاریخ کے آئینہ میں 2ستمبر تحقیق:محمدیوسف بھٹہ 1192ء: سلطان صلاح الدین ایوبی اوررچرڈاوّل کے مابین ایک معاہدے کے بعدتیسری صلیبی جنگ کاخاتمہ ہوا۔  1666ء:لندن میںآگ بھڑک اٹھی جسے تاریخ میں گریٹ فائرکے نام سے یادکیاجاتاہے۔ 1752ء:برطانیہ نے جارجیائی کیلنڈراپنا لیا۔ 1908ء:ہندوستان کے ٹیسٹ کرکٹرامیرالٰہی پیداہوئے۔ 1936ء:پاکستان کے معروف ماہرآثارقدیمہ محمدرفیق مغل پیداہوئے۔ 1940ء:سپریم کورٹ کے جج جسٹس(ر)مختاراحمدجونیجوپیداہوئے۔ 1945ء:ویت نام نے جاپان اورفرانس سے آزادی حاصل کرلی۔ 1945ء:دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے اتحادیوں کے آگے ہتھیارڈال دیے۔ 1946ء:ہندوستان کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کرنے کیلئے جواہرلال نہروکی سربراہی میں عبوری کابینہ بنائی گئی۔ 1947ء:پی ٹی وی کی مقبول ڈرامہ سیریل عینک والاجن کے پروڈیوسراورشاعرحفیظ طاہرلاہورمیں پیداہوئے۔ 1953ء:افغان کمانڈراحمدشاہ مسعودپیداہوئے۔ 1966ء:ہالی ووڈکی اداکارہ ،فلم پروڈیوسراورڈائریکٹرسلمیٰ ہائیک میکسیکومیں پیداہوئیں۔ 1969ء:عوام کے استفادہ کیلئے نیویارک میں پہلی ATMمشین چالوکردی گئی۔ 1969ء:پاکستان کے فلم ڈائریکٹراوررائٹرفرجادنبی لاہورمیں ...

آج کا دن:تاریخ کے آئینہ میں

آج کا دن : تاریخ کے آئینہ میں                 (یکم ستمبر) تحقیق:محمدیوسف بھٹہ 1715ء: یورپ میں طویل ترین(72سال) بادشاہت کرنے والے فرانسیسی بادشاہ کنگ لوئیسXiVانتقال کرگئے۔ 1798ء: انگریزوں نے حیدرآبادکے حکمران نظام الملک(آصف جاہ دوئم)کواپنی ریاست برطانوی حفاظت میں دینے کامعاہدہ کرنے پرمجبورکردیا۔ 1875ء:ٹارزن اوردی ایپ مین جیسی سیریزکے خالق ایجررائیس برنوپیداہوئے۔ 1908ء:پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرامیرالٰہی پیداہوئے۔ 1910ء :ٹیلی ویژن اورفلم کی برطانوی نژاداداکارہ ایویس لینڈون کوئٹہ میں پیداہوئیں۔ 1917ء:بابائے آرٹلری کہلوانے والے بریگیڈیئرجنرل (ر)محمدعباس بیگ جہلم میں پیداہوئے۔ 1923ء:جاپان میں ریکٹرسکیل 9کی شدت کا زلزلہ،ایک لاکھ43ہزارافرادہلاک ہوگئے۔ 1930ء:ممتازڈرامہ نگارفاطمہ ثریابجیاحیدرآباد(دکن)میں پیداہوئیں۔ 1939ء:ہٹلرکی فوجوں نے پولینڈپرحملہ کردیا،دوسری جنگ عظیم یورپ تک پھیل گئی۔ 1944ء:سرائیکی تحریک کے بانی ،دانشورڈاکٹرغضنفرمہدی ملتان میں پیداہوئے۔ 1952ء:طالبان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے پاک فوج کے اہم کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل محمدمسعوداسلم جہلم میں پیداہو...

Urdu kay sada bahar ashaar(اُردوکے سدابہاراشعار:جوضرب المثل بن گئے)

Image
اُ ردوکے سدابہاراشعار : جوضرب المثل بن گئے (قسط نمبر1) (محمدیوسف بھٹہ)  اردوشاعری ایسے بے شماراشعارسے بھری پڑی ہے جو نہ صرف سدابہارہیں بلکہ وہ ایک ضرب المثل کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔نئے لکھاری ، مقرراورخصوصاًسیاسی قائدین ان اشعارکا بے دریغ استعمال کرتے اوربے پناہ دادوصول کرتے ہیں۔ان میں زیادہ تراشعار استادشعراء کے مجموعہ ہائے کلام میں شامل ہیں۔اگرغورکیاجائے توہرشعرانتہائی گہرے تخیل اورزندگی کی حقیقتوں کواپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔آج ہم کچھ ایسے ہی اشعارآپ کی خدمت میں پیش کرنے والے ہیں: ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر (ڈاکٹرعلامہ محمداقبالؔ ) آہ کو چاہئے اِک عمراَثر ہونے تک کون جیتاہے تری زلف کے سرہونے تک (مرزاغالبؔ ) آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں (ساغر ؔ صدیقی)  آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں توہائے گل پکارمیں چلاؤں ہائے دل (سیدمحمدخان رندؔ ) اُلجھاہے پاؤں یارکازلفِ درازمیں لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا (مومن خان مومنؔ ) بہت شورسنتے تھے پہلومیں دل کا ...

Moazzam Ali: Aik darvesh siffat news hawker(معظم علی:ایک درویش صفت نیوزھاکر)

Image
معظم علی: ایک درویش صفت نیوزہاکر معظم کوروزانہ ہرمزاج اورہرقماش کے لوگوں سے واسطہ پڑتاہے مگروہ تابعداری اورحلیمی کی خُونہیں چھوڑتا تحریر:محمدیوسف بھٹہ سردی ہو یا گرمی،بارش ہو یا دھوپ،دھندہویالُو،حبس ہویاطوفان اخبارفروش معظم علی بلا ناغہ ہمیں گجرات کی ضلع کچہری کے مین گیٹ کے باہراپنی سائیکل پراپنانیوزسٹال سجائے نظرآتاہے۔صبح 6بجے سے دوپہر ایک بجے تک وہاں مفت اخباربینوں کاہجوم نظرآتاہے۔معظم علی اسلامی مساوات کاعلمبردارہے۔وہ اخبارخریدنے والوں اور مفت پڑھنے والوں سے مساوی سلوک کرتاہوانظرآتاہے۔چاہے کوئی مفت بر اس سے بیس اخبارلیکربھی پڑھ لے وہ اس کے مطلوبہ اخبارنکال نکال کردیتا جاتا ہے اوراس کے ماتھے پر ذرابھی شکن نہیں آتی۔یہ بھی ایک ناقابل یقین حقیقت ہے کہ اس نے آج تک کسی مفت برسے اخبارخریدنے کو نہیں کہا۔معظم علی ایک ایساشریف النفس، حلیم الطبع،منکسرالمزاج،ایمانداراورمرنجاں مرنج انسان ہے کہ وہ سارادن لوگوں کی بدتمیزیاں،بددیانتیاں اور طرح طرح کی چھوٹی موٹی زیادتیاں ہس ہس کرسہہ لیتا ہے مگرکبھی کسی کا شکوہ زبان پرنہیں لاتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ کئی لوگ معظم سے اخبارمستعارلے کراپ...

Mujhay ulfat hay us dunya sy۔(مجھے الفت ھے اُس دنیا سے)

! مجھے الفت ہے اُس دنیاسے محمدیوسف بھٹہ مجھے الفت ہے اُس دنیاسے جہاں بربط بجتے رہتے ہوں جہاں سہرے سجتے رہتے ہوں جہاں گجرے مہکے رہتے ہوں جہاں خوشبوپھیلی رہتی ہو جہاں بلبل چہکی رہتی ہو جہاں پیت پیارکی باتیں ہوں جہاں روزروزملاقاتیں ہوں جہاں خوشیوں کابس ڈیرہ ہو جہاں غم کاکبھی نہ پھیراہو جہاں تن پہ سب کے کپڑے ہوں جہاں بال کسی کے نہ بکھرے ہوں جہاں خوشیاں بٹتی رہتی ہوں جہاں نفرتیں مٹتی رہتی ہوں جہاں جھوٹ ریاکانام نہ ہو جہاں دھوکہ صبح شام نہ ہو جہاں مجبوری نہ فاقہ ہو جہاں چوری ہونہ ڈاکہ ہو جہاں رُوپ بہروپ نہ بنتے ہوں جہاں سائے دھوپ نہ بنتے ہوں امیدوں کے جہاں دیپ جلیں آاُس دنیامیں سب لوٹ چلیں **** (یہ نظم ۱۹۹۹میںپروڈیوسرجناب مشتاق چودھری کی فرمائش پرایک ڈرامہ سیریل روپ بہروپ کے ٹائٹل کیلئے لکھی گئی تھی جو کسی وجہ سے شامل نہ ہوسکی تھی

Rahat Malik: Aik hama jehat shakhsiat(راحت ملک:ایک ہمہ جہت شخصیت)

Image
(راحت ملک: ایک ہمہ جہت شخصیت(شاعر،صحافی،کالم نگار،دانشور،سیاسی کارکن،انقلابی،باغی،شعلہ بیاں مرحوم کی زندگی کا ایک تابناک پہلوجس سے عام لوگ ناواقف ہیں (تحریر:محمدیوسف بھٹہ) راحت ملک مرحوم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ان کی شخصیت کا ہرپہلوبڑاشانداراورتوانائی سے بھرپورتھا۔اگر بنظرِغائر دیکھا جائے توان کی پوری زندگی طبقاتی نظام کے خلاف جدوجہدکرتے اورمعاشرے کی اونچ نیچ اوردوغلے پن کے خلاف لڑتے ہوئے گزری۔ راحت ملک قدرت کی تمام کاریگری کے ادراک کیلئے عقل وفہم کواستعمال کرنے کے حامی تھے۔ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام تخلیقات میں نہ صرف اپنی ربوبیت کااظہارکیاہے بلکہ انسان کوغوروفکرکرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ دبلے پتلے جسم مگرچٹان جیسے عزم کے مالک راحت ملک بچپن سے ہی استحصالی قوتوں کے ساتھ نبردآزماہوگئے تھے۔انہوں نے ایک باطل عقیدے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی تمام خاندانی وراثت، خونی رشتوں اورشان و شوکت کوبھی ٹھکرادیااورپوری زندگی کسمپرسی میں گزارنے کوفخرمحسوس کیا۔ نوعمری کے ایک واقعہ نے راحت ملک کی زندگی کارخ موڑدیا۔اس واقعہ سے ان کی فکراورعمل کی سمت کابخوبی اندازہ لگایاجا...